۷۱. نوح
۲۸ آیات · مکی
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
- إِنَّآ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوْمِهِۦٓ أَنْ أَنذِرْ قَوْمَكَ مِن قَبْلِ أَن يَأْتِيَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ1
یقیناً ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف[1] بھیجا کہ اپنی قوم کو ڈرا دو (اور خبردار کردو) اس سے پہلے کہ ان کے پاس دردناک عذاب آجائے.[2]
- قَالَ يَـٰقَوْمِ إِنِّى لَكُمْ نَذِيرٌ مُّبِينٌ2
(نوح علیہ السلام نے) کہا اے میری قوم! میں تمہیں صاف صاف ڈرانے واﻻ ہوں.[1]
- أَنِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ وَٱتَّقُوهُ وَأَطِيعُونِ3
کہ تم اللہ کی عبادت کرو[1] اور اسی سے ڈرو[2] اور میرا کہا مانو.[3]
- يَغْفِرْ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ وَيُؤَخِّرْكُمْ إِلَىٰٓ أَجَلٍ مُّسَمًّىۚ إِنَّ أَجَلَ ٱللَّهِ إِذَا جَآءَ لَا يُؤَخَّرُۖ لَوْ كُنتُمْ تَعْلَمُونَ4
تو وه تمہارے گناه بخش دے گا اور تمہیں ایک وقت مقرره تک چھوڑ دے گا[1] ۔ یقیناً اللہ کا وعده جب آجاتا ہے تو مؤخر نہیں ہوتا[2]۔ کاش کہ تمہیں سمجھ ہوتی.[3]
- قَالَ رَبِّ إِنِّى دَعَوْتُ قَوْمِى لَيْلًا وَنَهَارًا5
(نوح علیہ السلام نے) کہا اے میرے پرورگار! میں نے اپنی قوم کو رات دن تیری طرف بلایا ہے.[1]
- فَلَمْ يَزِدْهُمْ دُعَآءِىٓ إِلَّا فِرَارًا6
مگر میرے بلانے سے یہ لوگ اور زیاده بھاگنے لگے.[1]
- وَإِنِّى كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوٓا۟ أَصَـٰبِعَهُمْ فِىٓ ءَاذَانِهِمْ وَٱسْتَغْشَوْا۟ ثِيَابَهُمْ وَأَصَرُّوا۟ وَٱسْتَكْبَرُوا۟ ٱسْتِكْبَارًا7
میں نے جب کبھی انہیں تیری بخشش کے لیے بلایا[1] انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈال لیں[2] اور اپنے کپڑوں کو اوڑھ لیا[3] اور اڑ گئے[4] اور بڑا تکبر کیا.[5]
- ثُمَّ إِنِّى دَعَوْتُهُمْ جِهَارًا8
پھر میں نے انہیں بﺂواز بلند بلایا.
- ثُمَّ إِنِّىٓ أَعْلَنتُ لَهُمْ وَأَسْرَرْتُ لَهُمْ إِسْرَارًا9
اور بیشک میں نےان سے علانیہ بھی کہا اور چپکے چپکے بھی.[1]
- فَقُلْتُ ٱسْتَغْفِرُوا۟ رَبَّكُمْ إِنَّهُۥ كَانَ غَفَّارًا10
اور میں نے کہا کہ اپنے رب سے اپنے گناه بخشواؤ[1] (اور معافی مانگو) وه یقیناً بڑا بخشنے واﻻ ہے.[2]
- يُرْسِلِ ٱلسَّمَآءَ عَلَيْكُم مِّدْرَارًا11
وه تم پر آسمان کو خوب برستا ہوا چھوڑ دے گا.[1]
- وَيُمْدِدْكُم بِأَمْوَٰلٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَل لَّكُمْ جَنَّـٰتٍ وَيَجْعَل لَّكُمْ أَنْهَـٰرًا12
اور تمہیں خوب پے درپے مال اور اوﻻد میں ترقی دے گا اور تمہیں باغات دے گا اور تمہارے لیے نہریں نکال دے گا.[1]
- مَّا لَكُمْ لَا تَرْجُونَ لِلَّهِ وَقَارًا13
تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کی برتری کا عقیده نہیں رکھتے.[1]
- وَقَدْ خَلَقَكُمْ أَطْوَارًا14
حاﻻنکہ اس نے تمہیں طرح طرح سے[1] پیدا کیا ہے.
- أَلَمْ تَرَوْا۟ كَيْفَ خَلَقَ ٱللَّهُ سَبْعَ سَمَـٰوَٰتٍ طِبَاقًا15
کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے اوپر تلے کس طرح سات آسمان پیدا کر دیئے ہیں.[1]
- وَجَعَلَ ٱلْقَمَرَ فِيهِنَّ نُورًا وَجَعَلَ ٱلشَّمْسَ سِرَاجًا16
اور ان میں چاند کو جگمگاتا بنایا ہے[1] اور سورج کو روشن چراغ بنایا ہے.[2]
- وَٱللَّهُ أَنۢبَتَكُم مِّنَ ٱلْأَرْضِ نَبَاتًا17
اور تم کو زمین سے ایک (خاص اہتمام سے) اگایا ہے[1] (اور پیدا کیا ہے).
- ثُمَّ يُعِيدُكُمْ فِيهَا وَيُخْرِجُكُمْ إِخْرَاجًا18
پھر تمہیں اسی میں لوٹا لے جائے گا اور (ایک خاص طریقہ) سے پھر نکالے گا.[1]
- وَٱللَّهُ جَعَلَ لَكُمُ ٱلْأَرْضَ بِسَاطًا19
اور تمہارے لیے زمین کو اللہ تعالیٰ نے فرش بنادیا ہے.[1]
- لِّتَسْلُكُوا۟ مِنْهَا سُبُلًا فِجَاجًا20
تاکہ تم اس کی کشاده راہوں میں چلو پھرو.[1]
- قَالَ نُوحٌ رَّبِّ إِنَّهُمْ عَصَوْنِى وَٱتَّبَعُوا۟ مَن لَّمْ يَزِدْهُ مَالُهُۥ وَوَلَدُهُۥٓ إِلَّا خَسَارًا21
نوح (علیہ السلام) نے کہا اے میرے پروردگار! ان لوگوں نے میری تو نافرمانی کی[1] اور ایسوں کی فرمانبرداری کی جن کے مال واوﻻد نے ان کو (یقیناً) نقصان ہی میں بڑھایا ہے.[2]
- وَمَكَرُوا۟ مَكْرًا كُبَّارًا22
اور ان لوگوں نے بڑا سخت فریب کیا.[1]
- وَقَالُوا۟ لَا تَذَرُنَّ ءَالِهَتَكُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَلَا سُوَاعًا وَلَا يَغُوثَ وَيَعُوقَ وَنَسْرًا23
اور کہا انہوں نے کہ ہرگز اپنے معبودوں کو نہ چھوڑنا اور نہ ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر کو (چھوڑنا).[1]
- وَقَدْ أَضَلُّوا۟ كَثِيرًاۖ وَلَا تَزِدِ ٱلظَّـٰلِمِينَ إِلَّا ضَلَـٰلًا24
اور انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراه کیا (الٰہی) تو ان ﻇالموں کی گمراہی اور بڑھا.[1]
- مِّمَّا خَطِيٓـَٔـٰتِهِمْ أُغْرِقُوا۟ فَأُدْخِلُوا۟ نَارًا فَلَمْ يَجِدُوا۟ لَهُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ أَنصَارًا25
یہ لوگ بہ سبب[1] اپنے گناہوں کے ڈبو دیئے گئے اور جہنم میں پہنچا دیئے گئے اور اللہ کے سوا اپنا کوئی مددگار انہوں نے نہ پایا.
- وَقَالَ نُوحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى ٱلْأَرْضِ مِنَ ٱلْكَـٰفِرِينَ دَيَّارًا26
اور (حضرت) نوح (علیہ السلام) نے کہا کہ اے میرے پالنے والے! تو روئے زمین پر کسی کافر کو رہنے سہنے واﻻ نہ چھوڑ.[1]
- إِنَّكَ إِن تَذَرْهُمْ يُضِلُّوا۟ عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوٓا۟ إِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا27
اگر تو انہیں چھوڑ دے گا تو (یقیناً) یہ تیرے (اور) بندوں کو (بھی) گمراه کر دیں گے اور یہ فاجروں اور ڈھیٹ کافروں ہی کو جنم دیں گے.
- رَّبِّ ٱغْفِرْ لِى وَلِوَٰلِدَىَّ وَلِمَن دَخَلَ بَيْتِىَ مُؤْمِنًا وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَٱلْمُؤْمِنَـٰتِ وَلَا تَزِدِ ٱلظَّـٰلِمِينَ إِلَّا تَبَارًۢا28
اے میرے پروردگار! تو مجھے اور میرے ماں باپ اور جو بھی ایمان کی حالت میں میرے گھر میں آئے اور تمام مومن مردوں اور عورتوں کو بخش دے[1] اور کافروں کو سوائے بربادی کے اور کسی بات میں نہ بڑھا.[2]
ترجمہ: Urdu Translation - Muhammad Junagarhi · v1.1.3
۷۱:۱